نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی،شہباز شریف اور حمزہ شہباز گاڑی سے ہی نہ نکلے

لاہور (ویب ڈیسک) گذشتہ رات مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز لاہور ائیر پورٹ پہنچے جہاں انہیں لینڈ کرتے ہی گرفتار کر لیا گیا ۔ قائد نواز شریف کا استقبال کرنے کے لیے لیگی کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے لاہور ائیر پورٹ کا رُخ تو کر رکھا تھا لیکن کوئی بھی لاہور ائیر پورٹ اپنے قائد کے استقبال کے لیے نہ پہنچ سکا۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی اپنے بھائی کے استقبال کے لیے لاہور ائیر پورٹ پہنچنے سے قاصر رہے اور نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری اور ان کی اسلام آباد روانگی کےبعد شہباز شریف نے ریلی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ریلی کی قیادت گاڑی میں بیٹھ کر ہی کرتے رہے۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز گاڑی سے باہر ہی نہیں نکلے اور باہر ریلی میں موجود کارکنان انہیں خوب کوستے رہے۔کارکنان کا کہنا تھا کہ خود شہباز شریف اور حمزہ شہباز ٹھنڈی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کارکنان باہر شدید گرمی میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ میڈہیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف ایک ہی گاڑی میں سوار تھے اور دونوں رہنماؤں نے ایک مرتبہ گاڑی سے نکلنا تو دور کی بات گاڑی کا شیشہ تک نیچے نہیں کیا جس پر کارکن مایوسی کا شکار ہو گئے۔خواجہ سعد رفیق کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنما بھی اپنی اپنی ٹھنڈی گاڑیوں میں موجود رہے جس کے قائد کے لیے نکلنے والے کاررکنان کے

loading...

حوصلے پست ہو گئے ۔دوسری جانب استقبالی ریلی میں مسلم لیگ ن اپنی خواتین کارکنان کو ان کے گھروں سے نکالنے میں ناکام رہی۔ریلی میں جہاں مردوں کی تعداد 5 سے ساڑھے 5ہزار تھی وہاں عورتوں کی تعدا د 150سے 200سے زیادہ نہیں تھی۔ریلی میں محض مسلم لیگ ن کی سابق کابینہ کے رہنما اپنے درجنوں کارکنوں کے ہمراہ شریک ہوئے جبکہ زیادہ تعدا د حمزہ شہباز کے حلقہ این اے 124سے شریک ہوئی کیونکہ جس مقام سے ریلی نکالی گئی وہ بھی اسی حلقے میں آتا ہے ۔ ریلی میں خواجہ سعد رفیق وقتاً فوقتاً اپنی گاڑی میں کھڑے ہو کر کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے لیکنپارٹی کے دیگر رہنمائوں نہ تو تقریر کی نہ ہی کارکنوں کا حوصلہ بڑھایا بلکہ اپنی گاڑیوں میں ٹھنڈی ہوا کے مزے لُوٹتے رہے۔قافلہ ابھی مال روڈ پر ہی تھا کہ نواز شریف اور مریم کا طیارہ لاہور ائیر پورٹ پر لینڈ کر گیا اور ان کی گرفتاری کی خبر سنتے ہیں کارکن واپس اپنے گھروں کو چل دئے۔ریلی کے حوالے سے شہباز شریف کی حمکت عملی پر بھی کئی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔پارٹی قائد نوازشریف گرفتار ہو کر اسلام آباد روانہ بھی ہو گئے لیکن پارٹی صدر شہباز شریف تب بھی جوڑے پل پر موجود تھے۔نواز شریف کی پرواز میں ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کے باوجود شہباز شریف کے ائیرپورٹ نہ پہنچ سکنے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق عین ممکن ہے کہ شہباز شریف نے جان بوجھ کر ائیر پورٹ پہنچنے میں تاخیر کی ہو یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ائیر پوہرٹ جانا ہی نہ چاہتے ہوں اسی لیے انہوں نے ریلی تو نکالی لیکن ائیر پورٹ نہیں پہنچے کیونکہ وہ ائیر پورٹ جانے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تھے۔انہوں نے آغاز سے ہی اپنی ریلی کی رفتار کو کم رکھا۔ پارٹی صدر کی اس ناقص حکمت عملی کے بعد ان پر کئی سوالات اُٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کو بحث کے لیے ایک نیا موضوع بھی مل گیا ہے ۔ کچھ تجزیہ کاروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ شہباز شریف بھائی کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے بھی تعلق خراب نہیں کرنا چاہتے تھے اسی لیے انہوں نے بھائی کے حق میں ریلی تو نکالی لیکن اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے ائیر پورٹ بھی نہیں پہنچے۔

loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.