ڈاﺅ یونیورسٹی میں داخلہ فارم جمع کرانے والی لڑکیوں کے فارم اور تصاویر جہاں جاتی ہیں؟ نامعلوم نمبر سے لڑکی کو تصاویر ملیں تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی، اجنبی نے ایسا انکشاف کہ والدین کا دل خوف سے بیٹھ جائے گا

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈاﺅ میڈیکل یونیورسٹی کراچی میں میڈیکل کی تعلیم کیلئے بہترین ادارہ گردانہ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہزاروں نوجوان یہاں داخلے کیلئے درخواستیں جمع کراتے ہیں۔

اس سال بھی ہزاروں طلبہ و طالبات نے یہاں داخلے کیلئے درخواستیں جمع کرائیں مگر لڑکیوں کی جانب سے جمع کرائے گئے فارمز اور تصاویر کہاں گئیں؟ ایک طالبہ کو جب نامعلوم نمبر سے اس کی تصاویر اور فارم ملا تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور ساتھ ہی اجنبی شخص نے ایسا انکشاف کر دیا کہ والدین کا دل بھی خوف سے بیٹھ گیا۔
فیس بک پیج ’ایجوکیشن ان کراچی‘ کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ رابعہ عزیز نامی لڑکی کیساتھ پیش آیا جس نے گزشتہ سال ڈاﺅ میڈیکل سیکیورٹی میں داخلے کیلئے فارم جمع کروایا تھا۔

رابعہ نے لکھا ”میرا نام رابعہ ہے اور ہزاروں امیدواروں کی طرح میں نے بھی ڈاﺅ میڈیکل سیکیورٹی میں داخلہ فارم جمع کرایا لیکن مجھے داخلہ نہ ملا اور میں اس وقت ایک اور اچھے ادارے میں زیر تعلیم ہوں۔ یکم مارچ کو مجھے واٹس ایپ پر تین مختلف نامعلوم نمبروں سے پیغام موصول ہوئے۔ انہوں نے مجھے میری پاسپورٹ سائز تصاویر اور ڈاﺅ میڈیکل کالج کے داخلہ فارم کی تصاویر بھیجیں۔

انہوں نے کہا کہ میرا فارم اور تصاویر دیگر کئی لڑکیوں کے فارمز اور تصاویر کیساتھ ردی میں پڑا تھا اور یہ سب دیکھ کر میرا کیال حال ہوا؟ یہ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کیونکہ میرے فارم پر نام، شناختی کارڈ نمبر، فون نمبرز اور ایڈریس موجود تھا۔ یہ ساری تفصیلات یونیورسٹی کو دی گئی تھیں کیونکہ طالب علموں کو ان پر یقین ہے۔

loading...

میں نے یہ کبھی توقع نہیں کی تھی کہ ڈاﺅ میڈیکل کالج جیسا ادارہ طالب علموں کی ذاتی معلومات کیساتھ یہ سب کچھ کرے گا۔ میں حیران ہوں کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس طرح کے کتنے داخلہ فارمز تصاویر کیساتھ ردی والے کو بیچے ہوں گے۔

مجھے مسیج کرنے والے تینوں افراد نے یہی کہا کہ یونیورسٹی سے پوچھیں انہوں نے ایسا کیوں کیا اور میں اتنی لاپرواہ کیسے ہو گئی۔ میں یونیورسٹی انتظامیہ سے پوچھتی ہوں کہ یہ سب کچھ کتنے عرصے سے جاری ہے اور آپ اس طرح کی حرکت کر بھی کیسے سکتے ہیں؟ اگر ہمارے فارمز کو ضائع ہی کرنا تھا تو انہیں ختم کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا تھوڑے سے پیسوں کیلئے طالب علموں کا اعتبار توڑنا ٹھیک ہے؟ رابعہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ڈاﺅ یونیورسٹی انتظامیہ تک رسائی رکھتا ہے تو اسے بتائے اور یا پھر اسے مشورہ دیں کہ اب کیا کرنا چاہئے؟“

loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.